غربت کے باعث اشیائے خورد و نوش نہ حاصل کر پانے پر اسلام آباد کی معصومہ بی بی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ پاکستان میں افراطِ زر کی شرح بڑھنے پر عام آدمی کی زندگی انتہائی دشوار ہوچکی ہے۔ یہاں تک کہ اس سے پچھلے ہفتے لاہور مکہ کالونی گلبرگ کی بشریٰ نے غربت سے تنگ آکر اپنے دو بچوں چار سالہ بیٹی صائمہ اور پانچ سالہ زبیر کے ہمراہ گھر کے سامنے گزرنے والی ٹرین کے سامنے آ کر خودکشی کرلی تھی۔ سولہ اپریل کو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اپنے دورہ لاہور کے دوران بشریٰ کے والدین اور شوہر سے تعزیت کرنے گئے، اس کے بچوں کے لیے دعائے مغفرت کی اور دو لاکھ روپے بطور امداد بھی دیئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عام آدمی کا مقدر اس طرح کی کہانیاں سامنے آنے پر انفرادی امداد ہی رہے گی یا اس سے پہلے اجتماعی طور پر بھی اس کے بارے میں کچھ عملی اقدامات کئے جائیں گے؟
خبر کی تفصیل: وزیر اعظم ’خود کش‘ ماں کے گھر